برطانوی مسلمان پرامن رہ کر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں،مذہبی و سیاسی رہنما

0
38

برمنگھم:برطانوی انتہا پسندوں اور نسلی امتیاز پھیلانے والے انتہا پسند سفید فام گروپوں کی جانب سے3اپریل کو مسلمانوں پمسلمان پرامن رہتے ہوئے اپنے حسن اخلاق، طرز عمل اور بہترین شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ثابت کریں کہ مسلمان برطانوی معاشرے کا لازمی حصہ ہیں چند سفیدفام گروہ برطانوی امن و امان تباہ کرنا چاہتے ہیں۔3اپریل سے مسلمانوں پر حملوں کی افواہوں پر کان دھرنے کی بجائے مسلمان معاشرے میں پرامن طور پر اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں۔ انتہا اور شرپسند عناصر کا جواب ان کی زبان میں دینے کی بجائے حسن سلوک اور سمجھداری سے دیں۔ انتہا پسند گروہ مسلمانوں میں انتشار اور نفرت پھیلانا چاہتے ہیں۔اس حوالے سے ممتاز مذہبی اسکالر اور برٹش مسلم فورم کے کنوینر علامہ سید ظفر اللہ شاہ نے کہا کہ انتہاپسندوں کو جواب عملی طور پر دینے کیلئے ہمیں کردار سازی کرنا ہوگی حسن اخلاق، ہمارا بہترین ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ معمول کے مطابق کام کاج کو جاری رکھا جائے تاہم
ہمیں غیر مسلموں اور خصوصاً ہمسایوں سے بہترین سلوک اپنانا ہوگا۔ جامع مسجد ڈربی اور ہل سٹریٹ کے امام و خطیب علامہ حافظ فضل احمد قادری نے کہا کہ مسلمانوں کو ہر صورت قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پرامن رہنا ہوگا۔ نفرت پھیلانے والوں کو شکست دینے کیلئے ہمیں مل کر پرامن حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ قادریہ ٹرسٹ کیچیئرمین پیر محمد طیب الرحمٰن قادری نے کہا کہ مسلمانوں کو اسلام کے مطابق اپنا کام کرنا ہوگا اسلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ ساری انسانیت کے لئے امن و محبت کا علمبردار ہے۔ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دوسروں سے اچھا سلوک کرنا ہوگا۔ مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز (رجسٹرڈ) کے صدر علامہ احمد نثار بیگ قادری نے کہا کہ برطانوی مسلمانوں نے ہمیشہ پرامن رہ کر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا ہے۔ نسلی امتیاز پھیلانے والے مسلمانوں کو اس ملک سے الگ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں جوش کی بجائے ہوش سے کام لے کر جواب دینا ہوگا۔ مرکزی جامع مسجد ڈڈلی کے امام علامہ حافظ محمد اکرم نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے EDL اور برٹین فرسٹ کے انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کو بھی اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرکے برطانوی حکام پر واضح کرنا ہوگا کہ یہ نفرت نہ صرف مسلمانوں بلکہ برطانوی امن کے خلاف پھیلائی جا رہی ہے۔ جامع امینیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے مہتمم و امام علامہ حافظ عبدالغفور احمد اور روحانی و علمی مرکز ضیاء￿ الامہ سینٹر کے مہتمم و امام علامہ شیخ امام شاہد تمیز نے کہا کہ ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہر شرپسندی اور نفرت کے خلاف امن و محبت کو پھیلانا ہوگا امن اور محبت بہترین جواب ہے۔ پتھر اور اینٹ کا جواب ہمیں محبت اور حسن اخلاق سے دینا ہوگا۔ جماعت اہلسنت برطانیہ کے ترجمان علامہ مفتی نصیر اللہ نقشبندی نے کہا کہ مٹھی بھر شرپسند عناصر برطانوی امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پرسکون اور پرامن رہ کر جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے کردار اور طرز عمل سے جواب دینا ہوگا کہ امن اور محبت ہمارا مذہب ہے۔ ممتاز روحانی پیشوا اور انگلش اسکالر صاحبزادہ پیر عمران ابدالی نے کہا کہ3اپریل کو مسلمان باہر نکل کر اپنے حسن سلوک اور اچھے کردار سے انتہا پسند سفید فاموں کا جواب دیں قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں نہ لیا جائے۔ نبی کریم آقا دو جہاں? کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر محبت اور امن کو بانٹا جائے۔ جامع مسجد انوارالقرآن لائی کر اس کے امام و خطیب علامہ قاری محمد انور قمر اور جامع مسجد رضا آسٹن کی انتظامی کمیٹی کے صدر الحاج صوفی محمد ایوب قادری نے کہا کہ3اپریل کو پرامن اور محتاط ہوکر اپنے معمولات زندگی چلانا ہوں گے نفرت اور انتشار کا جواب پرامن ہو کر دیا جائے غیر مسلم کمیونٹی کیساتھ اچھا اور بہتر رویہ اپنایا جائے۔ ادارہ مصباح القرآن برمنگھم کے مہتمم صاحبزادہ مصباح المالک لقمانوی، آستانہ عالیہ بساھاں شریف کے خلیفہ مجاز ملک آفتاب سرمد سیفی اور آستانہ عالیہ جھنڈے والی سرکار مدینہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر دلیر باشادہ بخاری نے کہا کہ3اپریل کی افواہ اور دھکمیوں پر کان دھرنے کی بجائے پرامن ہو کر اپنا کام کیا جائے جذبات کی بجائے حکمت اور دانش سے کام لے کر امن و محبت کو پھیلایا جائے۔ علامہ پیر شعیب چشتی، علامہ حافظ محمد سعید مکی اور دیگر جید علماء￿ مشائخ نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اور مسالک کو باہمی دست و گریباں ہونے کی بجائے ان مسائل کے نمٹنے کے لئے ایک ہونا ہوگا صحیح اسلامی تعلیمات کے فروغ سے ایسی دھمکیوں کا جواب ممکن ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here