کشمیر: شوپیان اور پلوامہ میں ہڑتال جاری، کنگن میں معمولات زندگی بحال

0
29

سری نگر ، 8 اپریل (یو ا ین آئی) جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں اتوار کو مسلسل آٹھویں روز بھی ہڑتال کی گئی ، تاہم وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے کنگن میں چھ روز بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے۔ ضلع پلوامہ جہاں جمعہ کو ایک مختصر مسلح تصادم میں ایک مقامی جنگجو جاں بحق ہوا، میں مسلسل تیسرے دن بھی ہڑتال کی گئی۔ مہلوک جنگجو مصور حسین وانی حزب المجاہدین سے وابستہ تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ 2017 میں جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے والے مصور نے بنگلور کے ایک کالج سے بی ٹیک کیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی علاقہ میں اتوار کو پابندیاں نافذ نہیں رہیں۔ انہوں نے تاہم بتایا کہ کچھ ایک علاقوں میں احتیاطی طور پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ اس دوران وادی میں اتوار کو ریل خدمات کلی طور پر بحال کی گئی تھیں۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان دو روز تک معطل رہنے والی ریل خدمات اتوار کی صبح بحال کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان ریل خدمات کو ہفتہ کے روز بحال کیا گیا تھا۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع شوپیان کے مختلف حصوں میں اتوار کو مسلسل آٹھویں روز بھی ہڑتال رہی۔ دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم صورتحال میں بہتری آنے کے ساتھ ضلع میں سست رفتار والی ٹو جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئی ہیں۔ ضلع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات 31 مارچ اور یکم اپریل کی درمیانی رات کو معطل کی گئی تھیں۔ شوپیان میں یکم اپریل کو دو مختلف جنگجو مخالف آپریشنوں میں 12 مقامی جنگجو اور تین عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی روز ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں ہوئے مسلح تصادم میں ایک مقامی جنگجو اور ایک عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس سوئم پرکاش پانی نے ہفتہ کے روز ضلع شوپیان کا دورہ کرکے پولیس اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ لاء اینڈ آڈر کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا ’آئی جی پی نے شوپیان کے دورے کے دوران اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ لاء اینڈ آڈر کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران ایس او پیز پر پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں‘۔ وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قصبہ کنگن میں اتوار کو چھ روز بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے۔ قصبہ میں اتوار کی صبح دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہوئی۔ بتادیں کہ جنوبی کشمیر کے دو اضلاع میں یکم اپریل کو ہوئی ہلاکتوں کے تناظر میں 2 اپریل کو قصبہ کنگن میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے دوران 22 سالہ گوہر احمد راتھر شدید طور پر زخمی ہوا۔ وہ سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) میں قریب 24 گھنٹوں تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 3 اپریل کو دم توڑ گیا۔ گوہر مبینہ طور پر پستول سے نکلنے والی ایک گولی کے سر میں لگنے سے زخمی ہوا تھا۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گذشتہ روزہ کنگن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گوہر کی موت ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے ہوئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here